سلطان محمود غزنوی: ہیرو یا ولن

سلطان محمود غزنوی: ہیرو یا ولن؟

Share With Others

سلطان محمود غزنوی: ہیرو یا ولن؟

سلطان محمود غزنوی، جو تاریخ میں ایک متنازع شخصیت کے طور پر جانا جاتا ہے، ایک ترک غلام کے بیٹے تھے جو ایک عظیم سلطنت کے بانی بنے۔ یہ آرٹیکل ان کی زندگی، فتوحات اور متنازع اقدامات پر روشنی ڈالتا ہے، جو ویڈیو دستاویزی فلم “ڈیکھو سنو جانو” سے ماخوذ ہے۔ محمود غزنوی نے ہندوستان پر 17 حملے کیے، جو انہیں تاریخ میں ایک اہم شخصیت بناتے ہیں۔

ابتدائی زندگی اور خاندان

محمود غزنوی کے والد سبکتگین ایک ترک غلام تھے، جو سمانی سلطنت کے گورنر الپتگین کے ہاتھوں خریدے گئے۔ الپتگین نے غزنی میں بغاوت کی اور ایک آزاد سلطنت قائم کی۔ سبکتگین نے اپنی بہادری کی وجہ سے الپتگین کا اعتماد حاصل کیا اور بعد میں غزنی کی سلطنت کا حکمران بنا۔ محمود غزنوی کی پیدائش 971 عیسوی میں ہوئی، اور انہوں نے اپنے والد کے ساتھ مل کر فوجی مہمات میں حصہ لیا۔

سبکتگین نے محمود کو فوجی اور سیاسی تربیت دی، اور وہ راجہ جے پال کے خلاف لڑائیوں میں شامل ہوئے۔ ایک جنگ میں، محمود نے ایک چال چلی جب انہوں نے جے پال کی فوج کے قریب ندی کا پانی گندا کر دیا، جس سے شدید برفباری میں پنجابی فوجی کمزور ہو گئے۔ سبکتگین کی موت کے بعد، محمود نے اپنے بھائی اسماعیل کو شکست دے کر تخت سنبھالا۔

سلطان محمود غزنوی کا مجسمہ

سلطان محمود غزنوی کا تاریخی مجسمہ، جو ان کی عظیم سلطنت کی عکاسی کرتا ہے۔

فتوحات اور ہندوستان پر حملے

محمود غزنوی نے سمانی سلطنت سے آزادی کا اعلان کیا اور اپنی سلطنت کو وسعت دی۔ انہوں نے ہندوستان پر 17 حملے کیے، جن میں سے پہلا 1001 عیسوی میں پشاور کے قریب راجہ جے پال کو شکست دینا تھا۔ انہوں نے بھاٹیہ، ناگرکوٹ، تھانسر اور کنوج جیسے شہروں کو فتح کیا اور بے پناہ دولت لوٹی۔

ایک مشہور جنگ 1008 عیسوی میں پشاور کے قریب انند پال کے خلاف تھی، جہاں ہندوستانی ریاستوں کی متحدہ فوج کو شکست ہوئی۔ اس جنگ میں انند پال کا ہاتھی بھاگ نکلا، جس سے ہندوستانی فوج میں افراتفری پھیل گئی۔ محمود نے کشمیر، لاہور (جسے محمود پور کہا) اور دیگر علاقوں کو بھی فتح کیا۔ لاہور میں ان کے غلام ایاز نے حکمرانی کی، اور اسی دور میں حضرت داتا گنج بخش لاہور آئے۔

محمود غزنوی کی سب سے مشہور فتح سومناتھ مندر تھی، جو 1024 عیسوی میں ہوئی۔ انہوں نے راجپوت فوج کو شکست دی اور مندر سے بے شمار دولت اور مجسمے لوٹے۔ تاریخ کہتی ہے کہ انہوں نے سومناتھ کا بت توڑا اور اس سے ہیرے جواہرات نکلے۔ تاہم، کچھ مورخین جیسے رومیلا تھاپر کا کہنا ہے کہ یہ کہانیاں مبالغہ آمیز ہیں اور برطانویوں نے ہندو مسلم تقسیم کو بڑھانے کے لیے استعمال کیں۔ سومناتھ کے دروازے جو غزنی سے لائے گئے، دراصل صنوبر کی لکڑی کے تھے نہ کہ صندل کے، جو اصل دروازے تھے۔

سلطنت اور ذاتی شخصیت

محمود غزنوی کی سلطنت ایران سے چین کے کچھ علاقوں تک پھیلی ہوئی تھی۔ انہوں نے بغداد کے خلیفہ سے “امین الملت” اور “یمین الدولہ” کے خطاب حاصل کیے۔ تاہم، ان کی شخصیت متنازع ہے۔ مسلمان مورخین نے انہیں شراب نوش اور مسلمان ریاستوں پر حملوں کا ذمہ دار ٹھہرایا۔ انہوں نے سیستان اور گرجستان جیسی مسلمان ریاستوں کو فتح کیا اور شاعر فردوسی کو شاہنامہ لکھنے کا معاوضہ چاندی میں دیا، جو سونے کا وعدہ تھا۔

محمود غزنوی نے اپنی سلطنت میں امن قائم کیا اور علم و ادب کی سرپرستی کی، لیکن ان کی فتوحات میں لوٹ مار اور غلامی شامل تھی۔ موت سے پہلے، انہوں نے اپنی تمام دولت ایک جگہ جمع کی اور روئے، پھر اپنی فوج کا مظاہرہ دیکھا۔ وہ 1030 عیسوی میں 63 سال کی عمر میں گردے کی پتھری سے انتقال کر گئے۔ ان کی قبر غزنی میں ہے۔

سومناتھ مندر کی فتح کا منظر

سومناتھ مندر کی فتح کا تصوراتی منظر، جو محمود غزنوی کی مشہور مہم کی عکاسی کرتا ہے۔

نتیجہ: ہیرو یا ولن؟

محمود غزنوی کو کچھ لوگ اسلامی ہیرو مانتے ہیں، جو کفار کے خلاف جہاد کرتے تھے، جبکہ دیگر انہیں ایک طاقتور حکمران سمجھتے ہیں جو سلطنت کی توسیع کے لیے کسی بھی حد تک جاتے تھے۔ تاریخ کی پرانی کہانیاں اکثر مبالغہ آمیز ہوتی ہیں، لیکن ان کی فتوحات نے اسلامی سلطنت کو وسعت دی۔ آپ کی رائے کیا ہے؟


Share With Others

اس موضوع پر مزید پڑھیں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *