سقراط ایتھنز کا عظیم فلسفی
سقراط: ایتھنز کا عظیم فلسفی
سقراط، جنہیں تاریخ ایک عظیم فلسفی اور سچائی کے شہید کے طور پر جانتی ہے، ایتھنز کے ایک مجسمہ ساز کے بیٹے تھے۔ ان کی زندگی سوال اٹھانے، سچ کی تلاش اور سماجی روایات کو چیلنج کرنے کی کہانی ہے۔ یہ آرٹیکل ویڈیو “وہ کون تھا” سیریز سے ماخوذ ہے، جو فیصل وڑائچ کی “دیکھو سنو جانو” سے لی گئی ہے۔
ابتدائی زندگی اور سوالات کی ابتدا
سقراط ایتھنز کے پرتھینن کے قریب ایک پہاڑی پر رہتے تھے، جہاں سے دیوی ایتھینا کا مجسمہ اور شہر نظر آتا تھا۔ ان کے والد ایک مجسمہ ساز تھے، اور والدہ دائی کا کام کرتی تھیں۔ بچپن سے ہی سقراط کے ذہن میں سوالات جنم لیتے تھے۔ وہ اپنے والد سے پوچھتے کہ پتھر سے شیر کا مجسمہ کیسے بنتا ہے؟ والد نے جواب دیا کہ پتھر کے اندر شیر کو دیکھنا اور اسے آزاد کرنا ہوتا ہے۔ اسی طرح ان کی والدہ نے بتایا کہ وہ صرف بچے کی پیدائش میں مدد کرتی ہیں، اصل کام ماں کا ہوتا ہے۔
ان جوابات سے سقراط نے سیکھا کہ اصلی چیزیں چھپی ہوئی ہوتی ہیں، اور انہیں دریافت کرنے کی ضرورت ہوتی ہے۔ وہ دیوتاؤں کی کہانیوں پر بھی سوالات اٹھاتے تھے کہ اگر دیوتا اتنے عظیم ہیں تو وہ حسد، غصہ اور لڑائی کیوں کرتے ہیں؟ ان کے سوالات کو اکثر نظر انداز کیا جاتا تھا، کیونکہ ایتھنز میں دیوتاؤں پر سوال اٹھانا معیوب سمجھا جاتا تھا۔
سقراط کا چہرہ خوبصورت نہ تھا، جس کی وجہ سے لوگ ان کا مذاق اڑاتے۔ وہ ایک برتن ساز کے پاس جاتے اور پوچھتے کہ اس کے برتن اتنے خوبصورت کیوں ہیں؟ برتن ساز نے کہا کہ خوبصورت برتن وہ ہوتا ہے جو بے عیب ہو۔ اس سے سقراط نے سیکھا کہ سچائی اور خوبصورتی چھپی ہوئی ہوتی ہے، اور اسے تلاش کرنے کے لیے سوالات ضروری ہیں۔
پرتھینن، ایتھنز کا تاریخی مقام جہاں سے سقراط نے اپنے سوالات کی ابتدا کی۔
فلسفیانہ سفر اور ایتھنز کی ثقافت
سقراط نے اپنے والد کا پیشہ اختیار کیا لیکن وہ مجسمہ سازی سے زیادہ لوگوں کے خیالات جاننے میں دلچسپی رکھتے تھے۔ وہ صارفین سے لمبی بحثیں کرتے۔ اس وقت ایتھنز دنیا کا مشہور شہر تھا، جہاں ابتدائی جمہوریت رائج تھی۔ صرف مردوں کو ووٹ کا حق تھا، اور ایتھنز کے لوگ اس پر فخر کرتے تھے۔ شہر میں دنیا بھر سے جہاز آتے، اور لوگ ماربل کے مجسموں کو دیکھ کر حیران ہوتے۔
سقراط لوگوں سے سوالات کرتے اور ان کے جوابات کی صداقت پر بحث کرتے۔ ان کی طویل سوال جواب کی عادت لوگوں کو حیران کرتی تھی۔ کچھ لوگ انہیں سنجیدہ فلسفی سمجھتے، تو کچھ انہیں دلچسپ سمجھ کر سوالات پوچھتے۔ ان کی شہرت ایتھنز سے نکل کر پورے یونان میں پھیل گئی۔
اناکساگوراس کا اثر
ایک دن ایتھنز کے مشہور سیاستدان پیریکلز کے ساتھ اناکساگوراس نامی شخص آیا، جو فلکیات کا ماہر تھا۔ اس نے کہا کہ سورج، چاند اور سیارے دیوتا نہیں بلکہ پتھر ہیں، اور چاند کی روشنی سورج سے آتی ہے۔ یہ 2500 سال پہلے کی بات تھی جب کوئی سائنسی آلہ جیسے دوربین موجود نہ تھی۔ ایتھنز کے لوگوں نے اناکساگوراس کے خیالات کو مسترد کیا اور اسے مرتد قرار دیا۔ اسے عدالت میں پیش کیا گیا اور موت یا جلاوطنی کی سزا دی جا سکتی تھی۔ کچھ ججوں نے اسے جلاوطن کر دیا۔
سقراط نے اناکساگوراس کے خیالات کی نہ حمایت کی نہ مخالفت، بلکہ کہا کہ ان کے پاس اسے رد کرنے کا کوئی دلیل نہیں۔ اس جواب سے ایتھنز کے روایتی لوگ ناراض ہوئے اور انہوں نے سقراط کو دیوتاؤں کے خلاف سمجھنا شروع کیا۔ اناکساگوراس نے سقراط کو سکھایا کہ سچائی تک پہنچنے کے لیے صرف سوالات کافی نہیں، بلکہ تجربہ کار لوگوں سے بات چیت ضروری ہے۔
شہرت اور تنازع
سقراط کی شہرت بڑھتی گئی، اور ان کے شاگردوں جیسے افلاطون اور کریٹو نے انہیں دنیا کا سب سے ذہین شخص مانا۔ ایک دن سقراط کے شاگرد کیریفون نے ڈیلفی کے مندر میں موجود اپولو کی پجارن سے پوچھا کہ کیا ایتھنز میں سقراط سے زیادہ ذہین کوئی ہے؟ پجارن نے کہا کہ کوئی بھی سقراط سے زیادہ ذہین نہیں۔ اس سے سقراط کی شہرت اور بڑھ گئی، لیکن کچھ لوگوں نے اسے رشوت کا نتیجہ قرار دیا۔
سقراط نے کہا کہ وہ خود کو جاہل سمجھتے ہیں، اور شاید اسی لیے اپولو نے انہیں ذہین کہا کیونکہ وہ اپنی جہالت کو تسلیم کرتے ہیں۔ اس بیان سے ایتھنز کے نوجوانوں میں ان کی مقبولیت بڑھ گئی، لیکن روایتی طبقہ ان سے ناراض ہو گیا۔
ایک اور اہم شخصیت ایلسیبیاڈیز تھی، جو ایک امیر اور بہادر بحری کمانڈر تھا۔ وہ سقراط کا شاگرد بنا لیکن سقراط اس کی دولت اور خوبصورتی سے متاثر نہ ہوئے۔ ایلسیبیاڈیز کو سسلی کے ایک فوجی مشن کا کمانڈر بنایا گیا، جو ناکام ہوا۔ اس کے بعد وہ ایتھنز کے دشمن اسپارٹنز میں شامل ہو گیا۔ اس سے سقراط کی ساکھ کو نقصان پہنچا کیونکہ لوگوں نے انہیں ایلسیبیاڈیز کا استاد کہہ کر بدنام کیا۔
مقدمہ اور سزا
399 قبل مسیح میں ایتھنز کی عدالت نے سقراط پر مقدمہ چلایا۔ الزام تھا کہ وہ نوجوانوں کو دیوتاؤں سے دور کر رہے ہیں اور ایتھنز کی شکست (پیلوپونیشین جنگ میں اسپارٹنز سے) کے ذمہ دار ہیں۔ سقراط کے سامنے 500 رکنی جیوری تھی، اور فیصلہ ایک دن میں ہونا تھا۔ انہیں 180 منٹ دفاع کے لیے دیے گئے۔
لیکن سقراط نے دفاع کرنے کے بجائے وہی کیا جس کا ان پر الزام تھا۔ انہوں نے جیوری کے سامنے سماج کی منافقت اور جھوٹ کو بے نقاب کیا۔ انہوں نے کہا کہ وہ سچ بولنے سے باز نہیں آئیں گے، چاہے اس کی قیمت ان کی جان ہی کیوں نہ ہو۔ ووٹنگ میں 280 ججوں نے انہیں قصوروار قرار دیا۔
قانون کے مطابق سقراط کو اپنی موت کا طریقہ منتخب کرنا تھا۔ انہوں نے طنزیہ انداز میں کہا کہ وہ سرکاری خرچ پر دعوت کھانا چاہتے ہیں، لیکن حقیقت میں انہوں نے ہیملاک زہر کا انتخاب کیا۔ ان کے دوستوں نے جلاوطنی کی سزا مانگنے کا مشورہ دیا، لیکن سقراط نے کہا کہ وہ سچ سے بھاگ کر دوسرے شہر میں خاموش نہیں رہ سکتے۔
موت اور ورثہ
سقراط کو جیل میں ڈال دیا گیا۔ ان کے دوست کریٹو نے رشوت دے کر انہیں بھگانے کی منصوبہ بندی کی، لیکن سقراط نے قانون توڑنے سے انکار کر دیا۔ آخری دن، جب وہ زنجیروں میں جکڑے تھے، انہوں نے ہیملاک زہر کا پیالہ ہاتھ میں لیا۔ افلاطون کے مطابق ان کا ہاتھ ذرا بھی نہ کانپا۔ انہوں نے اپنے دوستوں سے کہا کہ وہ خاموشی سے ان کی موت دیکھیں۔ زہر پینے کے بعد وہ چند منٹ چلے، پھر لیٹ گئے۔ زہر نے ان کے جسم کو نیچے سے اوپر تک سن کر دیا۔ اپنے آخری الفاظ میں انہوں نے کریٹو سے کہا کہ وہ ان کے ایک مرغ کے قرض کی ادائیگی کر دیں۔ پھر وہ ہمیشہ کے لیے خاموش ہو گئے۔
سقراط کی موت نے انہیں سچائی کا شہید بنا دیا۔ ان کی تعلیمات نے افلاطون اور دیگر فلسفیوں کے ذریعے مغربی فلسفے کی بنیاد رکھی۔ انہوں نے سکھایا کہ سچائی کی تلاش ہر چیز سے بڑھ کر ہے، اور سوال اٹھانا انسانی ذہن کی سب سے بڑی طاقت ہے۔
