اختر شیرانی کا تعارف اور نظم “برسات” کی مکمل تشریح
شاعر کا تعارف اور نظم “برسات” کی مکمل تشریح
اختر شیرانی کا تعارف
اصل نام محمد داؤد خان اختر، والد حافظ محمود شیرانی۔ 4 مئی 1903ء ریاست ٹونک (راجپوتانہ) پیدا۔ ابتدائی تعلیم ٹونک، 1920ء لاہور والد پاس۔ لاہور قیام۔ بچپن شعر دلچسپی۔ رسالے: انتخاب، خیالستان، رومان (کامیابی نہیں، مقبولیت ہاں)۔ ادارت: ہمایوں، سہل، شاہکار۔ 1937ء لغت جامع الغات۔ 1948ء 45 سال عمر لاہور وفات، آسودہ خاک۔ شاعر رومان، “اردو کا جان کیٹس”۔ نظم گیت نگاری مقبول۔ مجموعے: پھولوں کے گیت، نغمہ حرم، صبح بہار، اخترستان، لالہ طور، طیور آوارہ، شہناز۔
نظم برسات کا تعارف
لالہ طور سے، اصل عنوان “بر کھارُت”۔ کل 7 اشعار، نصاب 6 اشعار عنوان “برسات”۔ رومانوی جمالیاتی خیالات، خوبصورت تشبیہات استعارات منظر نگاری جان۔ خوبصورت قافیے، رسیلے الفاظ، صنعت تکرار، موسیقیت۔ برسات ہر منظر خوبصورتی، تصویر آنکھوں متحرک۔
نوٹ: ہر شعر تشریح آغاز اختصار سے:
اختر شیرانی رومانوی جمالیاتی شاعر، تشبیہات استعارات منظر نگاری جان۔ نصاب نظم “برسات” لالہ طور سے، “بر کھارُت”۔ قافیے رسیلے، تکرار موسیقیت۔ برسات منظر خوبصورتی، تصویر متحرک…
اشعار کی تشریح (نصاب کے 6 اشعار)
1. شعر:
گھٹاؤں کی نیلی فام پریاں، اُفق پہ دھومیں مچا رہی ہیں
ہواؤں میں تھرتھرا رہی ہیں، فضاؤں کو گدگدا رہی ہیں
الفاظ و معانی:
| الفاظ | معانی | الفاظ | معانی |
|---|---|---|---|
| گھٹا | بادل | نیلی فام | نیلا رنگ |
| اُفق | آسمان کنارہ | دھوم مچانا | شور غُل |
| تھرتھرانا | کانپنا لرزنا | گدگدانا | ہنسانا اُبھارنا |
مفہوم: گھٹائیں نیلی پریاں، اُفق شور، ہوائیں تھرتھرا، فضا گدگدا۔
تشریح: برسات موسم خوبصورت منظر کشی۔ آسمان نیلی گھٹائیں پریاں جھوم۔ نیلا رنگ مناسبت پریاں۔ ہوائیں اُڑاتیں، تیز ہوا تھرتھرا۔ ٹکرا شور۔ شریر چنچل شوخ پریاں گدگدا، مسکرانا مجبور۔ گھٹا خوشگوار ہوا فضا رنگین پربہار روح پرور دلکش۔
ہوا ناچتی ہے فضا گا رہی ہے بڑی تمکنت سے بہار آ رہی ہے مسکراتی ہوئی آتی ہے گھٹا ساون کی جی لبھاتی ہوئی آتی ہے گھٹا ساون کی قدم حسن، بندش عمدہ۔ “نیلی فام پریاں”، “تھر تھرانا”، “گدگدانا” خوبصورت تراکیب، رنگینی اضافہ۔
2. شعر:
چمن شگفتہ، دمن شگفتہ، گلاب خنداں، سمن شگفتہ
بنفشہ ونسترن شگفتہ ہیں، پتیاں مسکرا رہی ہیں
بہاولپور 2008
الفاظ و معانی:
| الفاظ | معانی | الفاظ | معانی |
|---|---|---|---|
| چمن | باغ | شگفتہ | کھلا خوش |
| دمن | چھوٹی پہاڑی | سمن | چنبیلی یاسمین |
| خنداں | ہنستا مسکراتا | نسترن | سفید خوشبودار گلاب |
مفہوم: چمن دمن گلاب سمن بنفشہ نسترن شگفتہ، پتیاں مسکرا۔
تشریح: برسات آمد بعد منظر۔ بارش تبدیلی لہر۔ گرمی لو مرجھا، بادل برس ہر طرف خوبصورتی۔ دھلی شاداب۔ باغ ہریالی، چمن پھول کھلا۔ دمن خود رو پھول۔ گلاب نزاکت مرجھا مسکرانا۔ سمن کھلا۔ بنفشہ پہاڑ۔ نسترن سفید بہار۔ پتیاں مسکراہٹ۔
چلتے ہو تو چمن کو چلیے سنتے ہیں کہ بہاراں ہے پات ہرے ہیں، پھول کھلے ہیں کم کم بادوباراں ہے سلاست غنائیت۔
3. شعر:
یہ مینہ کے قطرے مچل رہے ہیں، کہ ننھے سیارے ڈھل رہے ہیں
اُفق سے موتی اُبل رہے ہیں، گھٹائیں موتی لٹا رہی ہیں
بہاولپور 2008، ملتان 2007، لاہور 2007، ڈی جی خان 2006
الفاظ و معانی:
| الفاظ | معانی | الفاظ | معانی |
|---|---|---|---|
| مینہ | بارش | ڈھل کر | بن کر |
| اُبلنا | مسلسل باہر آنا | لٹانا | بکھیرنا |
مفہوم: مینہ قطرے مچل سیارے ڈھل، اُفق موتی اُبل، گھٹائیں لٹا۔
تشریح: بارش منظر کشی۔ بے چین قطرے زمین سیارے ڈھل۔ وافر موتی نمودار، ہوا بکھیر، گھٹائیں لٹا۔ تشبیہات: قطرے سیارے، موتی۔ دلفریب نظارہ۔ قیمتی موتی حسین، پانی فصل عنایت۔ سلاست روانی، منظر کشی کمال۔ استعارہ: “اُفق موتی اُبلنا”، “گھٹا موتی لٹانا”۔ حسن زور۔ غنایت اتم۔
4. شعر:
نہیں ہے کچھ فرق بحروبر میں کھینچا ہے نقشہ یہی نظر میں
کہ ساری دنیا ہے اک سمندر، بہاریں جس میں نہا رہی ہیں
بہاولپور 2008، ملتان 2007، ڈی جی خان 2006
الفاظ و معانی:
| الفاظ | معانی | الفاظ | معانی |
|---|---|---|---|
| بحر | سمندر | بر | خشکی |
| نقشہ کھینچنا | تصویر خیال نظر لانا |
مفہوم: بحر بر فرق نہیں، دنیا سمندر، بہاریں نہا۔
تشریح: شدید بارش جل تھل۔ خشکی سمندر منظر۔ پانی مچل، دنیا سمندر۔ پانی روانی بہار شوخی اٹھکیلیاں دلکش۔ بہاریں سرمستی غسل جوبن نکھر خیرہ۔ دل خوشی طمانیت۔ دنیا سمندر تشبیہ خوب۔
کیا مستیاں ہیں باغ میں اب جوش آب سے ہر شاخ گل ہے ہاتھ میں ساغر لیے ہوئے سلاست روانی غنائیت۔ مراعات النظیر: چمن قبیل۔ تضاد۔
5. شعر:
چمن ہے رنگیں، بہار رنگیں، مناظر سبزہ زار رنگیں
ہیں وادی و کو ہسار رنگیں، کہ بجلیاں رنگ لا رہی ہیں
الفاظ و معانی:
| الفاظ | معانی | الفاظ | معانی |
|---|---|---|---|
| مناظر | نظارے | سبزہ زار | ہریالی |
| وادی | دو پہاڑ درمیان | کوہسار | پہاڑی سلسلہ |
مفہوم: چمن بہار سبزہ زار وادی کوہسار رنگیں، بجلیاں رنگ۔
تشریح: برسات رنگینی۔ پھول جوبن پھیلا۔
پھول ہیں صحرا میں یا پریاں قطار اندر قطار اُودے اُودے، نیلے نیلے، پیلے پیلے پیرہن باغ رنگین۔ سبزہ زار جاذب۔ وادی پھول اٹے۔ بجلی چمک حسیں دوبالا۔ فطرت حسن جلوے۔ سادگی جذبات۔ غنائیت۔ “رنگین” تکرار حسن موسیقیت۔
6. شعر (مقطع):
چمن میں اخترؔ بہار آئی، مہک کی صوت ہزار آئی
صبا گلوں میں پکار آئی، اٹھو گھٹائیں پھر آ رہی ہیں
الفاظ و معانی:
| الفاظ | معانی | الفاظ | معانی |
|---|---|---|---|
| مہک | خوشبو | صوت | آواز |
| صبا | صبح ہوا |
مفہوم: اختر چمن بہار، مہک ہزار آواز، صبا پھول پکار، گھٹائیں پھر۔
تشریح: برسات پیارا سماں۔ اختر باغ بہار، پھول خوشبو کیفیت رنگ بو۔ صحن شادمانی رونق ہزار صورتیں۔ ہوائیں پھول پیغام خوشی جھوم سیاہ گھٹائیں چھا۔ خوشبو بوچھاڑ تروتازہ، ناشکری نہیں۔
اس قدر عشق جنوں خیز کہاں ہوتا ہے کچھ اثر موسم باراں کا ہے دیوانوں پر صبا مجسم پیامبر، پھول خوشی پیام بہار۔ سادگی سلاست روانی غنائیت نغمگی۔
نظم کا خلاصہ
سرگودھا 2013 نیلی پریاں گھٹائیں اُفق شور تھرتھرا فضا گدگدا۔ چمن دمن گلاب سمن بنفشہ نسترن شگفتہ پتیاں مسکرا۔ مینہ قطرے مچل سیارے، اُفق موتی اُبل گھٹائیں لٹا۔ بحر بر فرق نہیں دنیا سمندر بہاریں نہا۔ چمن بہار سبزہ زار وادی کوہسار رنگیں بجلیاں رنگ۔ اختر چمن ہزار بہار، صبا پھول اعلان گھٹائیں پھر۔
یہ نظم رومانوی جمالیاتی شاہکار، برسات خوبصورتی متحرک تصویر۔ تشبیہات استعارات تکرار موسیقیت سلاست غنائیت۔ فطرت حسن جوبن نکھر روح پرور دلکش۔
