پرسی بیشی شیلے: ایک انقلابی رومانٹک شاعر
پرسی بیشی شیلے: ایک انقلابی رومانٹک شاعر کی مکمل سوانح حیات
پرسی بیشی شیلے (Percy Bysshe Shelley) انگریزی ادب کے عظیم رومانٹک شعرا میں سے ایک تھے، جن کی شاعری اور نظریات نے دنیا کو تبدیل کرنے کی کوشش کی۔ وہ 4 اگست 1792 کو انگلینڈ کے سسیکس میں فیلڈ پلیس کے قریب پیدا ہوئے اور 8 جولائی 1822 کو صرف 29 سال کی عمر میں اطالیہ کے قریب سمندری حادثے میں انتقال کر گئے۔ شیلے کی زندگی بغاوت، محبت، سیاسی جدوجہد اور ادبی تخلیقات سے بھری ہوئی تھی۔ ان کی مشہور نظمیں جیسے “Ozymandias”، “Ode to the West Wind” اور “To a Skylark” آج بھی ادب کے طلبہ اور شائقین کے لیے اہم ہیں۔ یہ آرٹیکل پرسی بیشی شیلے کی زندگی، کاموں، شادیوں، سیاسی نظریات، موت اور وراثت پر مکمل تفصیلات فراہم کرتا ہے، جو مختلف معتبر ذرائع جیسے ویکی پیڈیا، برٹانیکا اور پوئٹری فاؤنڈیشن سے حاصل کی گئی ہیں۔

پرسی بیشی شیلے کی ابتدائی زندگی اور خاندان
پرسی بیشی شیلے 4 اگست 1792 کو انگلینڈ کے سسیکس میں فیلڈ پلیس، وارنم کے قریب پیدا ہوئے۔ وہ ٹموتھی شیلے اور الزبتھ پلفولڈ کے سب سے بڑے بیٹے تھے۔ ان کے والد ٹموتھی شیلے وگ پارٹی کے رکن پارلیمنٹ تھے، جو 1790 سے 1792 اور 1802 سے 1818 تک خدمات انجام دیں۔ ان کی والدہ ایک امیر کسان خاندان سے تعلق رکھتی تھیں۔ شیلے کے چھ بہن بھائی تھے: چار بہنیں اور ایک چھوٹا بھائی۔ بچپن میں وہ اپنی والدہ اور بہنوں کے قریب تھے اور بیرونی سرگرمیاں جیسے شکار، ماہی گیری اور گھڑ سواری کرتے تھے۔ چھ سال کی عمر میں انہوں نے وارنم کے وکر کی نگرانی میں ڈے سکول میں تعلیم شروع کی، جہاں ان کی یادداشت اور زبانیں سیکھنے کی صلاحیت نمایاں تھی۔
شیلے کا بچپن خوشگوار تھا، لیکن انہوں نے جلد ہی سائنس، جادوئی کہانیوں اور مافوق الفطرت چیزوں میں دلچسپی لی۔ وہ گن پاؤڈر، تیزاب اور بجلی کے تجربات کرتے، جو بعض اوقات ان کی بہنوں کو خوفزدہ کر دیتے۔ 1802 میں انہوں نے برینٹ فورڈ، مڈل سیکس کے سیون ہاؤس اکیڈمی میں داخلہ لیا، جہاں وہ بلنگ کا شکار ہوئے اور ناخوش تھے۔ یہاں سے ان کی نیندیں خراب ہونے لگیں، جو زندگی بھر جاری رہیں۔
پرسی بیشی شیلے کی تعلیم اور ابتدائی جدوجہد
1804 میں شیلے نے ایٹن کالج میں داخلہ لیا، جہاں انہیں شدید بلنگ کا سامنا کرنا پڑا۔ انہیں “میڈ شیلے” کہا جاتا تھا کیونکہ وہ غیر روایتی تھے اور فاگنگ (چھوٹے طلبہ کی خدمت) سے انکار کرتے۔ وہ جادو، سائنس اور مافوق الفطرت میں دلچسپی رکھتے تھے، جیسے بجلی سے ماسٹر کو جھٹکا دینا یا درخت کا ٹکڑا اڑانا۔ ان کے استاد جیمز لنڈ نے انہیں لبرل اور ریڈیکل مصنفین سے متعارف کرایا۔ ایٹن میں انہوں نے اپنی پہلی ناول Zastrozzi شائع کی اور کلاسکل سکالر کی شہرت پائی۔
1810 میں یونیورسٹی کالج، آکسفورڈ میں داخلہ لیا، جہاں وہ لیکچرز کم جاتے اور سائنسی تجربات کرتے۔ وہ تھامس جیفرسن ہوگ کے دوست بنے، جنہوں نے ان کے ریڈیکل اور اینٹی کرسچن نظریات کو متاثر کیا۔ انہوں نے The Necessity of Atheism (1811) لکھی، جو ان کی آکسفورڈ سے اخراج کا سبب بنی کیونکہ وہ مصنفیت سے انکار نہیں کرتے۔ یہ واقعہ ان کے والد سے جھگڑے کا باعث بنا۔
پرسی بیشی شیلے کی شادیاں اور ذاتی زندگی
شیلے کی پہلی شادی 1811 میں 16 سالہ ہیریٹ ویسٹ بروک سے ہوئی، جو ان کی بہنوں کی سکول فیلو تھی۔ وہ ایڈنبرگ بھاگ گئے، لیکن مالی مسائل اور ہیریٹ کے خاندان کی مخالفت کا سامنا کیا۔ ان کی بیٹی ایانتھے (1813) اور بیٹا چارلس (1814) پیدا ہوئے، لیکن رشتہ خراب ہو گیا۔ شیلے نے میری گڈون سے محبت کی اور 1814 میں ان کے ساتھ یورپ بھاگ گئے۔ ہیریٹ نے 1816 میں خودکشی کر لی۔
دوسری شادی میری ولاسٹون کرافٹ گڈون سے 1816 میں ہوئی۔ میری مشہور ناول Frankenstein کی مصنفہ تھیں۔ ان کے بچوں میں ولیم (1816-1819)، کلارا (1817-1818) اور پرسی فلورنس (1819-1889) شامل ہیں۔ شیلے کی زندگی محبت، دکھ اور سفر سے بھری تھی، جن میں اطالیہ کا سفر شامل ہے جہاں انہوں نے بائرن سے ملاقات کی۔
پرسی بیشی شیلے کی اہم تصانیف اور شاعری
شیلے کی تصانیف سیاسی، رومانٹک اور فلسفیانہ ہیں۔ ان کی مشہور کتابیں اور نظمیں یہ ہیں:
Queen Mab (1813):
ایک سیاسی ایپک جو مذہب، بادشاہت اور شادی پر تنقید کرتی ہے۔ یہ چارٹسٹ موومنٹ میں مقبول ہوئی۔
Alastor; or The Spirit of Solitude (1816):
ایک رومانٹک نظم جو تنہائی اور خوابوں کی تلاش پر ہے۔
Prometheus Unbound (1820):
ایک لیریکل ڈراما جو آزادی اور معافی کے موضوعات پر ہے۔
Ozymandias (1818):
ایک سونٹ جو طاقت کی فانییت پر ہے۔
Ode to the West Wind (1819):
ہواؤں کی تبدیلی کی علامت۔
To a Skylark (1820):
پرندے کی آزادی پر نظم۔
Adonais (1821):
جان کیٹس کی یاد میں ایلیجی۔
The Mask of Anarchy (1819):
پیٹرلو ماسکر پر سیاسی نظم۔
A Defence of Poetry (1821):
شاعری کی اہمیت پر مضمون۔
ان کی شاعری میں فطرت، محبت، انقلاب اور شکوک کی تھیمز غالب ہیں۔ وہ ویجیٹیرین تھے اور آزاد محبت کے حامی۔
پرسی بیشی شیلے کے سیاسی نظریات
شیلے ریڈیکل تھے، جو مذہب، بادشاہت اور سماجی ناانصافی کے خلاف تھے۔ وہ کیتھولک آزادی، جمہوریت اور دولت کی تقسیم کے حامی تھے۔ ان کی تحریریں جیسے Queen Mab اور The Mask of Anarchy نے گاندھی کو متاثر کیا۔ وہ پرامن احتجاج کے قائل تھے لیکن آخری چارہ کے طور پر بغاوت کو جائز سمجھتے۔
پرسی بیشی شیلے کی موت اور آخری دن
8 جولائی 1822 کو شیلے اطالیہ کے خلیج لا سپیزیا میں کشتی کے حادثے میں ڈوب گئے۔ ان کی لاش 18 جولائی کو ملی اور 16 اگست کو جلائی گئی۔ ان کا دل نہ جلا اور روم کے پروٹسٹنٹ قبرستان میں دفن کیا گیا۔
پرسی بیشی شیلے کی وراثت اور اثرات
شیلے کی موت کے بعد ان کی شہرت بڑھی۔ وہ براؤننگ، ہارڈی، یٹس اور مارکس کو متاثر کیا۔ ان کی بیوی میری نے ان کی تحریروں کو ایڈٹ کیا۔ آج وہ رومانٹک ادب کے اہم شاعر ہیں، جن کی شاعری شکوک، آئیڈیلزم اور سماجی انصاف پر ہے۔
