فراق گورکھپوری

فراق گورکھپوری کی مشہور غزل کی مکمل تشریح

Share With Others

نگاہ ناز نے پردے اٹھائے ہیں کیا کیا – فراق گورکھپوری کی مشہور غزل کی مکمل تشریح

نگاہ ناز نے پردے اٹھائے ہیں کیا کیا – یہ مصرع فراق گورکھپوری کی ایک انتہائی خوبصورت اور عاشقانہ غزل کا مطلع ہے جو اردو شاعری میں محبت، ناز، جلووں اور عشقیہ فتنوں کی عکاسی کرتی ہے۔ اس غزل میں شاعر نے محبوب کی نگاہوں، چال اور اداؤں کو استعارات، تشبیہات اور صنعتوں سے سجایا ہے۔ اگر آپ فراق گورکھپوری غزل تشریح، نگاہ ناز نے پردے اٹھائے ہیں کیا کیا تشریح یا اردو غزل مکمل تشریح تلاش کر رہے ہیں تو یہ آرٹیکل آپ کے لیے بہترین ہے۔ آئیے اس غزل کی مکمل تشریح، شعر بہ شعر تجزیہ اور ادبی اسالیب پر روشنی ڈالتے ہیں۔

غزل کا مکمل متن

نگاہ ناز نے پردے اٹھائے ہیں کیا کیا حجاب اہل محبت کو آئے ہیں کیا کیا

جہاں میں تھی بس اک افواہ تیرے جلووں کی چراغ دیر و حرم جھلملائے ہیں کیا کیا

نثار نرگس مے گوں کہ آج پیمانے لبوں تک آئے ہوئے تھرتھرائے ہیں کیا کیا

کہیں چراغ کہیں گل کہیں دل برباد خرام ناز نے فتنے اٹھائے ہیں کیا کیا

دو چار برق تجلی سے رہنے والوں نے فریب نرم نگاہی کے کھائے ہیں کیا کیا

بقدر ذوق نظر دید حسن کیا ہو مگر نگاہ شوق میں جلوے سمائے ہیں کیا کیا

پیام حسن پیام جنوں پیام فنا تری نگہ نے فسانے سنائے ہیں کیا کیا

نظر بچا کے ترے عشوہ ہائے پنہاں نے دلوں میں درد محبت اٹھائے ہیں کیا کیا

وہ اک ذرا سی جھلک برق کم نگاہی کی جگر کے زخم نہاں مسکرائے ہیں کیا کیا

فراقؔ راہ وفا میں سبک روی تیری بڑے بڑوں کے قدم ڈگمگائے ہیں کیا کیا

غزل کی شعر بہ شعر تشریح (مکمل تفصیل)

1. مطلع: نگاہ ناز نے پردے اٹھائے ہیں کیا کیا

حجاب اہل محبت کو آئے ہیں کیا کیا

شاعر کہتا ہے کہ محبوب کی ناز بھری نگاہیں، جو کبھی اٹھنا گوارا نہیں کرتیں، آج راز و نیاز کے پردے اٹھا رہی ہیں۔ یہ پردے اٹھانا اتنا بے باک ہے کہ اہل محبت (عشاق) کو بھی شرم آ گئی ہے۔

ادبی اسلوب: استعارہ (نگاہ ناز)، تضاد (پردہ اٹھانا اور حجاب آنا)۔

کلیدی الفاظ: نگاہ ناز، حجاب اہل محبت، پردے اٹھانا۔

2. جہاں میں تھی بس اک افواہ تیرے جلووں کی

چراغ دیر و حرم جھلملائے ہیں کیا کیا

دنیا میں محبوب کے جلووں کی صرف افواہ تھی، مگر اس خبر سے مندر و مسجد کے چراغ جھلملا اٹھے۔

صنعت حسن تعلیل: چراغ تو ویسے جلتے ہیں، لیکن شاعر نے جلووں کی خوشی کو سبب بتایا۔

استعارہ: دیر و حرم (مندر و مسجد)۔

3. نثار نرگس مے گوں کہ آج پیمانے

لبوں تک آئے ہوئے تھرتھرائے ہیں کیا کیا

نرگس مے گوں = محبوب کی سرخ، مست آنکھیں۔ پیالے لبوں تک آتے آتے تھر تھرا گئے۔

تشبیہ: آنکھیں شراب سے، پیالے کانپنے سے۔

تصویر کشی: آنکھوں کی جادوئی کشش۔

4. کہیں چراغ کہیں گل کہیں دل برباد

خرام ناز نے فتنے اٹھائے ہیں کیا کیا

محبوب کی ناز بھری چال نے فتنے اٹھائے:

  • چراغ → پروانہ جلتا ہے
  • گل → بلبل آہیں بھرتی ہے
  • دل برباد → عاشق تڑپتے ہیں تضاد اور تلمیح: پروانہ شمع، بلبل گل۔

5. دو چار برق تجلی سے رہنے والوں نے

فریب نرم نگاہی کے کھائے ہیں کیا کیا

برق تجلی = محبوب کی چمکتی نگاہیں۔ عاشق ان کے فریب میں پھنس گئے۔

استعارہ: نگاہ کو بجلی سے تشبیہ۔

6. بقدر ذوق نظر دید حسن کیا ہو مگر

نگاہ شوق میں جلوے سمائے ہیں کیا کیا

شوق کی نگاہ نے حسن کے جلوے سمیٹ لیے، مگر دیکھنے کا ذہن کہاں؟

فلسفیانہ نکتہ: حسن دیکھنے کی صلاحیت محدود ہے۔

7. پیام حسن پیام جنوں پیام فنا

تری نگہ نے فسانے سنائے ہیں کیا کیا

محبوب کی نگاہ تین پیغام دیتی ہے:

  1. حسن پرستی
  2. جنوں (دیوانگی)
  3. فنا (فنائے عشق)
  4. سلسلہ کلام: تینوں پیغام ایک ہی نگاہ سے۔

8. نظر بچا کے ترے عشوہ ہائے پنہاں نے

دلوں میں درد محبت اٹھائے ہیں کیا کیا

چھپے ہوئے عشووں نے نظر بچا کر دل میں درد بھر دیا۔

تصویر کشی: پنہاں عشوہ، درد محبت۔

9. وہ اک ذرا سی جھلک برق کم نگاہی کی

جگر کے زخم نہاں مسکرائے ہیں کیا کیا

ایک جھلک نے چھپے زخم تازہ کر دیے، “مسکرانا” = زخم کا دوبارہ کھلنا۔

استعارہ: زخم کا مسکرانا (درد کی شدت)۔

10. فراقؔ راہ وفا میں سبک روی تیری

بڑے بڑوں کے قدم ڈگمگائے ہیں کیا کیا

اے فراق! وفا کی راہ میں تیری سبک روی نے بڑوں کے قدم لڑکھڑا دیے۔

تخلص: شاعر اپنی وفا کی تعریف کرتا ہے۔

اہم ادبی اسالیب (صنعتیں)

 
 
صنعت مثال
حسن تعلیل چراغوں کا جھلملانا جلووں کی خوشی سے
استعارہ نرگس مے گوں، برق تجلی
تشبیہ نگاہ کو بجلی سے، زخم کا مسکرانا
تضاد پردہ اٹھنا اور حجاب آنا
تلمیح پروانہ شمع، بلبل گل
 

فراق گورکھپوری کا تعارف

فراق گورکھپوری (1896–1982) اردو کے نامور شاعر، ناقد اور استاد تھے۔ ان کی غزلیں سادگی، روانی اور عشقیہ گہرائی کی وجہ سے مشہور ہیں۔ “نگاہ ناز نے پردے اٹھائے ہیں کیا کیا” ان کی کلاسیکی غزل نگاری کی بہترین مثال ہے۔

 کیوں پڑھیں یہ غزل؟

یہ غزل محبت کی نفسیات، ناز و انداز اور عشق کے فتنوں کو نہایت خوبصورت انداز میں بیان کرتی ہے۔ 

  • نگاہ ناز نے پردے اٹھائے ہیں کیا کیا تشریح
  • فراق گورکھپوری غزل مکمل
  • اردو شاعری تشریح کلاس 12
  • عشقیہ غزل فراق

اگر آپ اردو نوٹس، غزل تشریح پی ڈی ایف یا آن لائن اردو ادب تلاش کر رہے ہیں تو یہ آرٹیکل مکمل رہنمائی فراہم کرتا ہے۔

مزید پڑھیں: اردو نوٹس – مکمل غزلیں اور تشریح


Share With Others

اس موضوع پر مزید پڑھیں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *