امیر مینائی کا تعارف اور نظم حمد کی مکمل تشریح

امیر مینائی کا تعارف اور نظم حمد کی مکمل تشریح

Share With Others

شاعر کا تعارف اور نظم “حمد” کی مکمل تشریح

شاعر کا تعارف

اصل نام امیر احمد اور تخلص امیر تھا۔ والد مولوی کرم محمد تھے، جو حضرت شیخ شاہ مینہ کے سگے بھائی کی اولاد سے تھے، اسی نسبت سے امیر مینائی کہلائے۔ ابتدائی تعلیم والد سے اور بعد میں مفتی سعد اللہ اور فرنگی محل کے جید علماء سے حاصل کی۔ لکھنؤ میں شعر و شاعری کا دور عروج پر تھا، اس ماحول میں طبعی مناسبت، محنت اور مشق سے مقام بنایا۔

تصانیف:

  • امیر اللغات (دو جلدیں)
  • ارشاد السلاطین
  • ہدایت السلاطین
  • اردو دیوان
  • مرآۃ الغیب
  • اردو نعتیہ دیوان
  • صنم خانہ
  • عشقیہ دیوان
  • مثنویاں: نور تجلی، ابرکرم، صبح ازل، شام ابد
  • انتخاب یادگار تذکرہ شعرائے رامپور

خصوصیات: خوش اخلاق، صاحب علم و عمل، قادر الکلام اور پرگو شاعر۔ حمد و نعت میں منفرد شان۔ کلام میں صحت زبان، فنی پختگی، لطافت بیان، حکمت و فلسفہ، حسین بندش، لطف گویائی، ادب و انشا کی خوبیاں۔ تصوف و اخلاق کے خیالات کا دریا بہاتے تھے۔

نظم کا تعارف

نظم “حمد” مجموعہ کلام “دیوان امیر مینائی” سے لی گئی۔ طویل حمد ہے، نصاب میں صرف 6 اشعار شامل۔ موضوع: اللہ کی توحید، وحدانیت، عظمت، جلال و جمال، وحدت الوجود کا صوفیانہ عقیدہ۔ شاعر درویش صفت، مذہبی گھرانے سے، تصوف ورثے میں ملا۔


اشعار کی تشریح (نصاب کے 6 اشعار)

1. شعر:

دوسرا کون ہے، جہاں تو ہے

کون جانے تجھے، کہاں تو ہے

بہاولپور بورڈ، ملتان بورڈ 2010-12، گوجرانوالہ 2012، فنی بورڈ 2013

الفاظ و معانی:

 
 
الفاظ معانی الفاظ معانی
حمد اللہ کی تعریف والی نظم جہاں جس جگہ
دوسرا ثانی، مقابل کون جانے؟ کس کو معلوم؟
 

مفہوم: اے اللہ! جہاں تو ہے، وہاں تیرے سوا کوئی نہیں۔ کوئی نہیں جانتا تو کہاں ہے۔

تشریح: توحید و وحدانیت کا بیان۔

  • اول: اللہ وحدہ لا شریک، بے مثل۔ کلمہ طیبہ (لا الہ الا اللہ) اور سورۃ الاخلاص کی تشریح۔ قرآن: لَيْسَ كَمِثْلِهٖ شَيْءٌ (کوئی اس کی مثل نہیں)۔ کائنات گواہی دیتی ہے۔

    ہر اک ذرہ فضا کا داستاں اس کی سناتا ہے ہر اک جھونکا ہوا کا آکے دیتا ہے پیام اس کا (مولانا ظفر علی خان)

  • دوسرا: ذات ہر جگہ (مکان و لا مکان)، مگر مقام کا علم انسانی رسائی سے باہر۔

    جگ میں آکر ادھر ادھر دیکھا تو ہی آیا نظر جدھر دیکھا (خواجہ میر درد) عقل میں جو گھر گیا لا انتہا کیوں کر ہوا جو سمجھ میں آگیا پھر وہ خدا کیوں کر ہوا (اکبر الٰہ آبادی) کلمات استفہام سے توحید خوبصورت پیش۔

2. شعر:

لاکھ پردوں میں ہے تو بے پردہ

سو نشانوں پہ، بے نشاں تو ہے

ملتان بورڈ 2010، لاہور بورڈ 2006، گوجرانوالہ بورڈ 2006، فنی بورڈ 2013

الفاظ و معانی:

 
 
الفاظ معانی الفاظ معانی
لاکھ پردوں بے شمار پردے بے پردہ بغیر پردے، ظاہر
سو نشانوں سیکڑوں نشانیاں بے نشاں بے نشان
 

مفہوم: لاکھ پردوں میں چھپی، پھر بھی جلوے ہر جگہ۔ سیکڑوں نشانیاں، مگر بے نشاں۔

تشریح: ہر جگہ موجودگی۔ نشانیوں سے پہچانتے، مگر حقیقی مشاہدہ قاصر۔

ذرے ذرے سے عیاں ہونے کے بعد آج تک رازِ حقیقت راز ہے جلوؤں ہی کی کثرت ہے جو پردے میں چھپا ہے یوں پردہ نشیں ہو کے بھی تو جلوہ نما ہے عربی: فِيْ كُلِّ شَيْءٍ لَهُ آيَةٌ (ہر چیز میں اس کی نشانی)۔ ظاہر کی آنکھ سے نہ تماشا کرے کوئی ہو دیکھنا تو دیدۂ دل وا کرے کوئی (اقبال) ہے جلوہ گاہ تیرا کیا غیب کیا شہادت یاں بھی شہود تیرا واں بھی شہود تیرا (میر درد) ذات مخفی، صفات ظاہر۔ سادگی میں کمال فن۔ دکھائی بھی جو نہ دے، نظر بھی جو آ رہا ہے، وہی خدا ہے

3. شعر:

تو ہے خلوت میں، تو ہے جلوت میں

کہیں پنہاں، کہیں عیاں تو ہے

بہاولپور، ملتان، ڈیرہ غازی خان 2008-09-10، لاہور 2007، گوجرانوالہ 2007، فنی بورڈ 2013

الفاظ و معانی:

 
 
الفاظ معانی الفاظ معانی
خلوت تنہائی جلوت محفل
پنہاں پوشیدہ عیاں ظاہر
 

مفہوم: تنہائی یا محفل، ہر جگہ موجود۔ کہیں پوشیدہ، کہیں ظاہر۔

تشریح: کوئی جگہ خالی نہیں۔ قرآن: وَھُوَمَعَکُمْ اَیْنَ مَاکُنْتُمْ (وہ تمہارے ساتھ جہاں ہو)۔ حدیث: “اکیلا ہو تو دوسرا اللہ، دو ہوں تو تیسرا اللہ”۔

خدایا اول و آخر بھی تو ہے خدایا باطن ظاہر بھی تو ہے (اسماعیل میرٹھی) جلوہ ہے اسی کا سب گلشن میں زمانے کے گل پھول کو ہے اس نے پردہ سا بنا رکھا قرآن: وَنَحْنُ اَقْرَبُ اِلَيْهِ مِنْ حَبْلِ الْوَرِيْدِ (شہ رگ سے قریب)۔ ہر ذرہ ہے اس بات کا شاہد، کہ خدا ہے حیراں ہے مگر عقل، کہ کیسا ہے وہ؟ کیا ہے؟ سادگی، سلاست، وسیع موضوع مقید۔

4. شعر:

نہیں تیرے سوا، یہاں کوئی

میزباں تو ہے، مہماں تو ہے

ملتان، ڈیرہ غازی خان 2008-09، لاہور 2011

الفاظ و معانی:

 
 
الفاظ معانی الفاظ معانی
سوا علاوہ یہاں دنیا
میزباں مالک، خاطر کرنے والا مہماں آنے والا
 

مفہوم: کائنات میں تیرے سوا کچھ نہیں۔ میزبان اور مہمان دونوں تو۔

تشریح: وحدت الوجود۔ ہر چیز تیرا عکس۔

نہ تھا کچھ تو خدا تھا، کچھ نہ ہوتا تو خدا ہوتا (غالب) ظہور آدم خاکی سے یہ ہم کو یقیں آیا تماشا انجمن کا دیکھنے خلوت نشیں آیا (آتش) میزبان: خالق، مالک۔ مہمان: بندوں میں نمائندہ (حدیث قدسی: بھوکا آیا، مدد نہ کی تو میری نہ کی)۔ مدرسہ یا دیر تھا، کعبہ یا بت خانہ تھا ہم سبھی مہمان تھے واں تو ہی صاحب خانہ تھا (میر داد) پیچیدہ مضمون سادہ الفاظ میں۔

5. شعر:

رنگ تیرا، چمن میں بُو تیری

خُوب دیکھا تو باغباں تُو ہے

ملتان 2008-09، لاہور 2006-07-11

الفاظ و معانی:

 
 
الفاظ معانی الفاظ معانی
چمن باغ بو خوشبو
خوب اچھی طرح باغباں مالی
 

مفہوم: چمن میں رنگ و بو تیری۔ غور سے باغبان تو۔

تشریح: استعارہ: دنیا باغ۔ رنگ، بو، حسن اللہ کا۔

لالہ و گل میں ہے تری نکہت چاند تاروں میں ہے ضیا تیری دکھائی بھی جو نہ دے نظر بھی جو آرہا ہے، وہی خدا ہے عربی: اللّٰهُ جَمِيْلٌ يُحِبُّ الْجَمَالَ (اللہ حسین، حسن پسند)۔ صنعت: مراعاۃ النظیر (چمن، رنگ، بو، باغبان)۔ نون کی تکرار۔

6. شعر:

محرم راز تو بہت ہیں امیرؔ

جس کو کہتے ہیں رازداں، تو ہے

مفہوم: محرم راز بہت، مگر حقیقی رازدان تو۔

تشریح: دنیا میں دوستی اغراض پر۔ دوست راز اگل دیتے۔ اللہ عیب چھپاتا، قیامت تک پردہ۔

حاجت روا نہیں ہے کوئی بھی تیرے سوا ترے در کرم پہ ہی میری نوا ہے دوستی سے حذر کرو طارق دوست ہوتے ہیں مطلبی اکثر سلاست، روانی، فن کی پہچان۔


نظم کا خلاصہ

اے اللہ! دنیا میں تیرے سوا کوئی نہیں، مگر مقام معلوم نہیں۔ لاکھ پردوں میں بے پردہ، سو نشانوں میں بے نشاں۔ خلوت جلوت، پنہاں عیاں۔ میزبان مہمان۔ چمن کا رنگ بو باغبان تو۔ امیرؔ! رازدان تو ہی۔

یہ نظم توحید، وحدت الوجود، اللہ کی قرب و جلال کی صوفیانہ تصویر۔ سادگی، فلسفیانہ گہرائی، قرآن و حدیث سے ہم آہنگی۔


Share With Others

اس موضوع پر مزید پڑھیں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *