چر اغ حسن حسرت

چر اغ حسن حسرت کا تعارف

Share With Others

چراغ حسن حسرت ادیب تھے، شاعر تھے، صحافی تھے اور پایہ کے کالم نگار تھے۔چراغ حسن حسرت 1904ء میں بمقام پونچھ (کشمیر) میں پیداہوئے۔ حصول تعلیم کے بعد انہوں نے کلکتہ میں اخبار نویسی کا کام شروع کیا اور ہفت روزہ رسالہ (شیرازہ) جاری کیا۔ اخبار (نئی دنیا) کے ذریعے ایک مزاح نگار کی حیثیت سے مشہور ہوئے۔ اس کے بعد لاہور آگئے اور اخبار (زمیندار) ، (شہباز)، اور (امروز) میں سند باد جہازی کے نام سے مزاحیہ کالم لکھتے رہے۔ وہ اپنے کالموں میں کولمبس اور سند باد جہازی کا قلمی نام بھی استعمال کرتے رہے۔کچھ عرصہ ریڈیو میں ملازمت بھی کی۔دوسری جنگ عظیم میں فوجی اخبار سے وابستہ ہو جاتے ہیں اور میجر کے عہدے تک جا پہنچے۔آپ نے 1955ء میں لاہور میں وفات پائی۔

          حسرت نے اُردو ادب  میں ایک نیا اُسلوب بیاں ایجاد کیا جس میں کلاسیکی ثقافت اور جدید سلاست دونوں کا ایک شیریں امتزاج تھا۔آپ کی کتاب ’’مردم دیدہ ‘‘ خاکہ نگاری کے کڑے معیار پر پوری اترتی ہے اس کتاب  میں  سات خاکے شامل ہیں ۔ خاکہ نگاری دراصل سیرت،سراپا اورشخصیت سب کو آپس میں ہم آغوش کرکے ایک تخلیقی تجربے کی صورت میں کاغذ پر منتقل کرنے کا نام ہے۔

          مصنف لکھتے ہیں کہ آج سے کوئی دس سال پہلے کا ذکر ہے کہ میں کلکتے سے نکلنے والے اخبار”نئی دنیا“ میں بیٹھا کام کر رہا تھا اور اس کا دفتر ”چونا گلی“ میں تھا۔ میں اس اخبار کا ادارتی صفحہ اور فکاہی کالم ”کولمبس“ لکھا کرتا تھا۔ کسی ملازم نے آکر اعلان کیا کہ ”جمیندار صاحب“ آئے ہیں۔ میں  کچھ نہ سمجھ پایا تو مولانا شائق احمد عثمانی نے وضاحت کی کہ مولانا ظفر علی خاں تشریف لائے ہیں۔ میری ان سے یہ پہلی ملاقات تھی۔ اس سے پہلے میں نے مولانا کی صرف تصویر دیکھی تھی۔ میرا  خیال تھا کہ دوسرے مذہبی راہنماؤں کی طرح انہوں نے بھی ایک گنبد نما توند پال رکھی ہو گی مگرجب انہیں دیکھا تو سخت مایوسی ہوئی کہ ان کی نہ توند تھی اور نہ ہی سر پر عمامہ تھا۔

          مولانا ظفر علی خاں تشریف لائے تو آتے ہی سیاست پر بحث شروع کر دی۔سائمن کمیشن،راؤنڈ ٹیبل کانفرنس اور ہندوستان کی کامل آزادی جیسے موضوعات پر بحث چھڑ گئی۔ مولانا کے لیے سائمن کمیشن کا ہندوستان آنا بہت اہم تھا جب کہ میرے  لیے مولانا کا کلکتے آنا زیادہ اہمیت رکھتا تھا۔ چنانچہ اگر میں غالب کا نام لیتا تو مولانا برکن ہیڈ کا ذکر شروع کر دیتے۔ انہیں میرؔ کی طر ف لاتا تو وہ مجھے بالڈون کی طرف لے جاتے۔ مولانا سیاسی امور پر بات چیت کرنا چاہتے تھے اور میں شعر و ادب پر۔ کچھ دیر کھینچا تانی کے بعد مولانا جیتے اور خاموشی سے ان کی باتیں سننے لگا۔

          میں  جب پہلی بار لاہور آیا تو مولانا ظفر علی خاں کے اخبار ”زمیندار“ کے دفتر میں کچھ دن قیام رہا۔ ایک دفعہ رات کے پچھلے پہر کسی نے میرا شانہ ہلایا اور اندھیرے میں مولانا کی آواز ابھری کہ آؤسیرکے لیے چلیں۔ مجھے قاضی احسان اللہ مرحوم نے بتا رکھا تھا کہ مولانا روز صبح نہر کے کنارے میلوں دوڑتے ہیں، اس لیے ساتھ نہ جائیے گا۔ چنانچہ میں نے سر درد اور دردِ قولنج کا بہانہ بنا کر جان بچائی۔

          اس دن مولانا ظفر علی خاں کی توند سے محرومی کی وجہ سمجھ آئی۔ مولانا کو ڈنٹر پیلنے کا بھی شوق تھا اور مگدر بھی ہلاتے تھے۔ نیزہ بازی شہسواری، پیراکی اور کشتی گیری کے بھی ماہر تھے۔ حیدر آباد دکن میں ملازمت کے دوران میں ایک دفعہ کامیاب نیزہ بازی کا مظاہرہ کیا تو ان کی خدمات فوج کے حوالے کر دی گئیں مگر افسرالملک سے نہ بن سکی اس لیے استعفا دے دیا۔

          مولانا ظفر علی خاں نہایت قادر الکلام اور زود گو شاعر تھے۔ ایک دفعہ ایک صاحب نے مولانا ظفر علی خاں کی شاعری پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ ان کے ہاں حقیقی شاعری بہت کم ہے۔ ان کی شاعری پڑھ کر اندازہ ہوتا ہے کہ ان کا دل عشق و محبت کے نرم و نازک جذبات سے خالی ہے۔ میں نے انہیں ایک شعر سنایا جو انہیں اس قدر اچھا لگا کہ وہ تین مرتبہ یہ شعر پڑھوایا۔ جب میں نے بتایا کہ یہ شعر مولانا ظفر علی خاں کا ہے تو وہ بے حد حیران ہوئے۔

          موجودہ زمانے میں اکثر شعرا کا یہ حال ہے کہ شعر گوئی کے حوالے سے انقباض کا شکار رہتے ہیں اور آمد بلکہ آورد سے بھی کچھ نہیں بن پڑتا تو بیوی بچوں کی شامت آجاتی ہے۔ گھر کا ماحول تباہ ہو جاتا ہے۔ مگر ظفر علی خان شعریوں کہتے تھے جیسے وہ باتیں کرتے ہیں یا نثر لکھتے ہیں۔مولانا کی اکثر نظمیں آدھ گھنٹے یا گھنٹے بھر کی کاوش سے لکھی گئی ہیں۔

          مولانا ظفر علی خاں جب تک دفتر میں رہتے بڑا ہلا گلا رہتا۔کوئی اچھا شعر کہتا یا مضمون لکھتا تو حوصلہ افزائی کرتے اور انعام بھی دیتے۔ مولانا اپنے اخبار کی زبان اور اس کی کتابت کا بہت خیال رکھتے تھے ۔ اخبار کی کاپی تیار ہوتی تو اس کو دیکھتے ہی غل مچا دیتے کہ یہ عبارت مہمل ہے، کتابت کی غلطیاں بہت ہیں۔ اور تو اور قرآن پاک کی آیت بھی غلط لکھی ہوئی ہے۔  کبھی قاضی کو بلا رہے ہیں، کبھی اختر کو آواز دے رہے ہیں اور کبھی راقم کو۔ الغرض تمام کارکنوں کو اپنے دفتر میں بلا لیتے اور کہتے کہ میں اس طرح کی غلطیوں سے بھرپور اخبار نہیں نکالنا چاہتا۔ بند کر دوا سے۔


Share With Others

اس موضوع پر مزید پڑھیں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *