ٹی وی ڈراموں میں بڑھتی ہوئے غیر اخلاقی مواد

ٹی وی ڈراموں میں بڑھتی ہوئے غیر اخلاقی مواد کے حوالے سے دو دوستوں کے درمیان مکالمہ

Share With Others

فہرستِ عنوانات

ٹی وی ڈراموں میں بڑھتا غیر اخلاقی مواد

(دو دوستوں کے درمیان مکالمہ)

جگہ: ایک چائے خانے کی ٹیبل وقت: شام 6 بجے کردار:

  • عمر (شادی شدہ، 2 بچوں کا باپ)
  • حسن (کالج طالب علم، 20 سال)

عمر: (چائے کا کپ رکھتے ہوئے) حسن بھائی، یہ کیا ہو رہا ہے؟ کل رات ڈرامہ دیکھا تو شرم آ گئی۔ بیٹی کو فوراً ٹی وی بند کرا دیا۔

حسن: (موبائل میں دیکھتے ہوئے) ہاں یار، ہر ڈرامے میں وہی افیئر، طلاق، بدلہ، فحش ڈائیلاگ۔ کبھی کبھی تو لگتا ہے کہ یہ ڈرامہ نہیں، نیا فلم انڈسٹری کا نمونہ ہے۔

عمر: بالکل! پہلے تو خاندانی کہانیاں ہوتی تھیں۔ ماں، باپ، بچوں کی تربیت، قربانی۔ اب تو ہیروئن کا لباس اور ہیرو کا رویہ دیکھ کر لگتا ہے کہ یہ پاکستانی ڈرامہ ہے یا کوئی ویب سیریز؟

حسن: (ہنستے ہوئے) ویب سیریز تو پھر بھی 18+ لکھتی ہے۔ یہاں تو پرائم ٹائم میں 8 بجے بچوں کے سامنے بولڈ سین دکھا رہے ہیں۔ میری بہن پوچھتی ہے کہ “بھائی، یہ چھیڑ خانی کیا ہوتی ہے؟”

عمر: (سنجیدہ ہو کر) یہ تو معاشرتی زہر ہے۔ ہمارے گھر میں ٹی وی اب صرف کارٹون کے لیے کھلتا ہے۔ باقی وقت یوٹیوب پر اسلامی لیکچرز لگا دیتا ہوں۔

حسن: لیکن یار، پیسہ ہی سب کچھ ہے۔ جتنا بولڈ مواد، اتنی TRP۔ چینل والوں کو ایڈورٹائزنگ چاہیے۔ پیمرا کوئی ایکشن نہیں لیتا۔

عمر: پیمرا کو خط لکھنا چاہیے۔ لیکن سب سے بڑی ذمہ داری والدین کی ہے۔ ہم خود ریموٹ کنٹرول سنبھالیں۔ بچوں کو فلٹرڈ مواد دکھائیں۔

حسن: بالکل! میں نے تو نیٹ فلکس پر فیملی فلٹر لگا دیا۔ پاکستانی ڈراموں کے لیے اب یوٹیوب پر پرانے کلاسک ڈرامے دیکھتا ہوں۔ وارث، دھواں، الف نون۔

عمر: واہ! یہی تو اصل پاکستانی ڈرامہ تھا۔ پیغام، اخلاق، مزاح۔ اب تو صرف جذبات فروشی ہو رہی ہے۔

حسن: (چائے ختم کرتے ہوئے) چلو، آج شام “انکشاف” دیکھتے ہیں۔ پرانا ڈرامہ، کوئی غیر اخلاقی سین نہیں۔

عمر: (مسکراتے ہوئے) ٹھیک ہے۔ لیکن پہلے گھر جا کر بچوں کو بتاؤں گا:

“ٹی وی دیکھنا ہے تو صرف وہ جو دل اور دماغ دونوں کو صاف کرے۔”

اخلاقی سبق مکالمے سے:

“میڈیا طاقتور ہے، لیکن والدین کی ذمہ داری اس سے بڑی ہے۔”

نوٹ: یہ مکالمہ کلاس ڈسکشن، اسکول ڈرامہ یا سوشل میڈیا پوسٹ کے لیے استعمال کیا جا سکتا ہے۔


Share With Others

اس موضوع پر مزید پڑھیں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *