استاد کا روز نامچہ اردو گرامر

استاد کا روز نامچہ اردو گرامر

Share With Others

بروز پیر۸۔فروری ۲۰۱۷ء

          آج الارم کی کھردری آواز سُن کے بھی اُٹھنے کو دل نہیں چاہا۔ طبیعت پر عجب سی بے حسی طاری تھی۔خیر اللہ کا نام لے کر اور قوت ارادی کو بروئے کار لاکر اٹھ کھڑا ہوا۔ابھی پانچ بجنے میں پانچ منٹ باقی تھے۔پہلے نمازادا کی پھر کچھ دیر تفسیر کی ایمان افروز کتاب سے اکتساب کرتا رہا۔اس کے بعد سیر کے لیے باغ کی طرف چلاگیا۔موسم نہایت سہاناتھا۔بادل کے ٹکڑے آسمان پر ہر طرف اٹھکھیلیاں کررہے تھے۔فرحت بخش ہوا نے ہر مشام جاں میں تازگی کی لہر دوڑادی ۔سیر سے واپسی پر ہمدم دیرینہ پروفیسر محمد اسحاق چودھری سے علیک سلیک ہوئی۔ جلدی میں انہوں نے شام کی چائے کا وعدہ لیا اور رخصت ہوگئے۔گھر واپس آکر اخبارات کی شہ سرخیوں کو پڑھا۔پھر ناشتہ کیا اور تیار ہو کر کالج روانہ ہوگیا۔

            آج کا شیڈول بہت سخت تھا۔میرے پانچوں پیریڈ لگے ہوئے تھے۔طلبہ کی ایک مختصر تعداد تفریح طبع کے لیے کالج کا رخ کرتی ہے۔انہیں پڑھائی سے کوئی رغبت نہیں ہوتی نہ ہی نظم و ضبط سے یہ آشنا ہی۔ انہیں پڑھا کر دماغ کی چولیں ہل گئیں۔پڑھانے سے زیادہ انہیں نظم و ضبط اور آداب سکھانے میں وقت لگ گیا۔خیر آخری پیریڈ میں تو ہمت جواب دے رہی تھی۔کسی نہ کسی طرح انہیں غالب کی پہلی غزل کی تشریح از سرنو کروائی۔کلاسیں ختم ہوئیں تو سٹاف روم کارخ کیا۔یہاں چائے کی پیالیوں میں گفتگو کے طوفان اٹھائے جارہے تھے۔چائے پی کر حواس بحال ہوئے تو میری زبان بھی خود بخود چلنے لگی۔دین اسلام سے دوری سے لے کر نسل نوکی بے سمتی اوربے راہ روی تک گفتگو کی شٹل کاک ادھر ادھر اچھلتی رہی۔پروفیسررضا احمد صاحب نے حسب معمول سنجیدہ گفتگومیں مزاح کے پیوند لگا کر محفل کو کشتِ زعفران بنائے رکھا۔

          دو بجے کے قریب کالج سے رخصت ہوا۔راستے میں ایک مسجد میں نماز ظہر ادا کی۔گھر آکر کھانا کھایا اور کچھ دیر آرام کیا۔پھر کچھ امتحانی پرچے جانچے۔ اس کے بعد پروفیسر اسحاق صاحب سے وعدہ نبھانے کے لئے گھر سے نکل پڑا۔وہ بڑے تپاک سے ملے۔پُر تکلف چائے کے دوران میں بہت سی باتیں ہوئیں۔بہت سے چہرے یاد آئے جو ماہ و سال کی دھند میں کھو گئے۔یادوں کے البم میں بہت کشش تھی لیکن ادبی تنظیم ”حلقہ اربابِ ذوق“کے شام کے اجلاس میں شرکت ضروری تھی۔لِہٰذا پروفیسر صاحب سے اجازت لے کر روانہ ہوا۔آج کی نشست احباب سے پُر تھی۔مقامی اور مہمان شعرا بھی مدعو تھے۔میں نے بھی اپنا کلام سنایا۔اس کے بعد منتظمین کو خدا حافظ کہہ کے گھر کی راہ لی۔تھکن سے براحال تھا لِہٰذا بستر پر گرتے ہی نیند کی آغوش میں چلے جانے کو جی چا ہ رہا تھا ۔ڈائری بند کی اور سونے کے لیے لیٹ گیا۔


Share With Others

اس موضوع پر مزید پڑھیں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *